ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ملکی خبریں / ججوں کی تقرری میں مزید حقوق کے حکومت کی تجاویز کو مسترد کر سکتا ہے کالجیم

ججوں کی تقرری میں مزید حقوق کے حکومت کی تجاویز کو مسترد کر سکتا ہے کالجیم

Sun, 14 Aug 2016 19:58:18    S.O. News Service

نئی دہلی،14اگست؍(آئی این ایس انڈیا)سپریم کورٹ کا کالجیم جج کے عہدے کے لئے کسی کی امیدواری مسترد کرنے اور عمل میمورنڈم(ایم اوپی) کے نظر ثانی مسودے میں ایپلی کیشنز کا اندازہ کرنے کے لئے جائزہ کمیٹی قائم کرنے کے حکومت کے موقف سمیت کچھ سرکاری قراردادوں پر اپنا اعتراض دہرا سکتا ہے۔ایم او پی میں ہائی کورٹس میں تقرریوں کے لئے ہدایات ہوتی ہیں۔اس طرح کے اشارے مل رہے ہیں کہ ہندوستان کے چیف جسٹس ٹی ایس ٹھاکر کی سربراہی میں کالجیم پر نظر ثانی مسودہ ایم اوپی میں تنازعہ والی دفعات کو لے کر اعتراضات ہیں جو وزارت قانون نے تین اگست کو اس کے سپردکیا ہے۔اس کا مطلب ہوگا کہ دستاویزات کو حتمی شکل دینے میں ابھی اور وقت لگے گا۔نظر ثانی مسودے پر تبادلہ خیال کرنے کے لئے آنے والے دنوں میں کالجیم کی میٹنگ ہو سکتی ہے۔نظر ثانی مسودے میں حکومت نے دہرایا ہے کہ اسے قومی سلامتی اور مفاد عامہ کی بنیاد پر کالجیم کی طرف سے پیش کئے گئے کسی نام کو مسترد کرنے کا حق ہونا چاہئے۔مئی میں کالجیم نے متفقہ طور پر اس تجویز کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ عدلیہ کے کام کاج میں مداخلت کے مترادف ہے۔مارچ کے ابتدائی مسودے میں حکومت نے کالجیم کو مسترد شدہ نام دوبارہ بھیجنے کا حق دینے سے انکار کیا تھا، وہیں نئے مسودے کے مطابق حکومت کالجیم کو اس کی سفارش کو مسترد کرنے کی وجہ کے بارے میں بتائے گی۔حکومت اور عدلیہ کی طرف سے ایم او پی کو حتمی شکل دئے جانے کی کوششوں کے درمیان سپریم کورٹ نے جمعہ کو کہا کہ انصاف فراہم کرنے کے انتظام کا زوال ہو رہا ہے۔سپریم کورٹ نے ہائی کورٹ میں چیف جسٹس اور ججوں کی تقرری اور ٹرانسفر کے کالجیم کے فیصلے کو لاگو نہیں کرنے کو لے کر مرکز سے ناراضگی ظاہر کی تھی۔عدالت عظمی نے دو دن پہلے اس سلسلے میں کہا تھا کہ وہ تعطل کو برداشت نہیں کرے گی اور اسے جوابدہ بنانے کے لئے مداخلت کرے گی۔چیف جسٹس ٹھاکر کی صدارت والی بنچ نے کہا کہ ہم ججوں کی تقرری میں تعطل کو برداشت نہیں کریں گے جس سے عدالتی کام کاج بری طرح متاثر ہو رہا ہے،ہم احتساب پر زور دیں گے۔


Share: